سری نگر ، 22ا؍گست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سری نگر میں آج بھی کرفیو جاری ہے۔یہاں پرآنسوگیس کے ایک گولے کی زد میں آکر کل ایک نوجوان کی موت ہو گئی تھی۔حزب المجاہدین کے جنگجو برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑکے تشدد کی وجہ سے جاری کرفیو اور ہڑتال کی وجہ سے وادی میں آج مسلسل 45ویں دن بھی معمولات زندگی ٹھپ ہے۔پورے سری نگر ضلع کے ساتھ اننت ناگ شہر میں بھی کرفیو جاری ہے۔ایک پولیس افسر نے بتایا کہ مشرقی کشمیر کے بڈگام ضلع کے خان صاحب شہرمیں بھی احتیاطی طورپرکرفیولگادیاگیاہے۔انہوں نے بتایا کہ حالات میں بہتری کو دیکھتے ہوئے پمپور سے کرفیو ہٹا لیا گیا ہے۔حالانکہ افسرنے بتایا کہ آئی پی سی کی دفعہ144کے تحت شہر سمیت وادی میں جہاں بھی کرفیو نافذ نہیں ہے، ان مقامات پر چار یا اس سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی اب بھی عائد ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایسا لاء اینڈآرڈر کی صورتحال کوبرقراررکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔شہر کے اہم علاقہ میں آنسو گیس کا گولے لگنے سے کل عرفان وانی نامی ایک نوجوان کی موت ہو گئی تھی۔افسر نے بتایا کہ یہاں کے موسم گرما کے دارالحکومت کے وسط میں واقع لال چوک کے آس پاس 14؍اگست کو لاگو کی گئی پابندیوں میں آج نرمی دی گئی۔انہوں نے بتایا کہ جن لوگوں کے پاس کرفیو کا پاس ہے صرف ان ہی کو لال چوک کے آس پاس جانے کی اجازت ہے۔حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی موت کی مخالفت میں وادی میں مظاہروں کاسلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ان مظاہروں کے دوران عام شہریوں کی موت کی مخالفت میں تحریک کی قیادت کر رہے علیحدگی پسندوں نے آج لوگوں سے تحصیل ہیڈ کواٹر کی طرف ریلی نکالنے کی اپیل کی۔9؍ جولائی کو شروع ہوئے پرتشدد مظاہروں میں اب تک دو پولیس اہلکار سمیت 65افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ کئی ہزار افراد زخمی ہیں۔اس درمیان کرفیو ، پابندیوں اورعلیحدگی پسندوں کے بند کے اعلان کی وجہ سے وادی میں مسلسل 45ویں دن معمولات زندگی درہم برہم ہے۔دکانیں، نجی دفاتر ، تعلیمی ادارے اور پٹرول پمپ بند رہے جبکہ عوامی گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں ۔سرکاری دفاتر اور بینکوں میں بھی حاضری بہت کم رہی۔پوری وادی میں موبائل انٹرنیٹ سروس مسلسل معطل ہے۔یہاں پر پری پیڈ موبائل پر آؤٹ گوئنگ سروس بند ہے۔سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، اور محمد یاسین ملک کی قیادت والے علیحدگی پسند گروپ نے تحریک کی مدت میں 25؍اگست تک توسیع کردی ہے۔